<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جہانِ قلم &#187; Calligraphy Books &raquo; جہانِ قلم</title>
	<atom:link href="http://fonts.alqlm.org/category/caligraphy-books/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://fonts.alqlm.org</link>
	<description>اردو عربی فارسی اور قرآنی یونی کوڈ فونٹس کی دنیا</description>
	<lastBuildDate>Wed, 29 Feb 2012 19:37:32 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>خط نستعلیق کس کی ایجاد ہے</title>
		<link>http://fonts.alqlm.org/2010/09/10/%d8%ae%d8%b7-%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%82/</link>
		<comments>http://fonts.alqlm.org/2010/09/10/%d8%ae%d8%b7-%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%82/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 10 Sep 2010 08:22:39 +0000</pubDate>
		<dc:creator>القلم</dc:creator>
				<category><![CDATA[Calligraphy Books]]></category>
		<category><![CDATA[featured articles]]></category>
		<category><![CDATA[خطاطی پر مضامین]]></category>
		<category><![CDATA[نستعلیق]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://fonts.alqlm.org/?p=1512</guid>
		<description><![CDATA[خط نستعلیق دنیائے خطاطی کا خوبصورت ترین اور مشکل ترین خط نستعلیق (نسخ تعليق) خواجہ مير علی تبريزی ( 790 ہجری/ 1388 ع. &#8211; 850 ہجری/ 1446ع ) نے ایجاد کیا۔ سلطان علی مشھدی ( 841 ہجری/ 1437ع &#8211; 926 ہجری/ 1520 ع) کہتے ہیں: نسخ تعليق گر خفی و جلی است واضع الاصل خواجہ &#8230; </p><p><a class="more-link block-button" href="http://fonts.alqlm.org/2010/09/10/%d8%ae%d8%b7-%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%82/">Continue reading &#187;</a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://alqlm.org/Jahan-e-Qalam/wp-content/uploads/2010/09/BG.gif"><img class="aligncenter size-full wp-image-1599" title="BG" src="http://alqlm.org/Jahan-e-Qalam/wp-content/uploads/2010/09/BG.gif" alt="" width="203" height="280" /></a></p>
<p><a href="../wp-content/uploads/2009/08/bhuttaAAQaseeda001.jpg"></a>خط نستعلیق<br />
دنیائے خطاطی کا خوبصورت ترین اور مشکل ترین خط نستعلیق (نسخ تعليق) خواجہ مير علی تبريزی ( 790 ہجری/ 1388 ع. &#8211; 850 ہجری/ 1446ع ) نے ایجاد کیا۔</p>
<p>سلطان علی مشھدی ( 841 ہجری/ 1437ع &#8211; 926 ہجری/ 1520 ع) کہتے ہیں:</p>
<p>نسخ تعليق گر خفی و جلی است<br />
واضع الاصل خواجہ مير علی است<br />
وضع فرمود او، ز ذہن دقيق<br />
از خط نسخ و ز خط تعليق<br />
ایک روایت کے مطابق خواجہ میر علی تبریزی اللہ تعالی سے دعا مانگا کرتے تھے کہ وہ کوئی ایسا خط ایجاد کریں جو بے مثال ہو۔ یہ دعا قبول ہوئی اور ایک رات حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں خواب میں فرمایا کہ بط اور مرغابی کے اعضا پر غور کرو اور نیا خط ایجاد کرلو۔ چناچہ خواجہ میر علی تبریزی نے خط نستعلیق ایجاد کرلیا جس نے عالم اسلام میں اپنا وجود منوایا۔<br />
ایک اور روایت کے مطابق آپ اس رسم الخط کی تلاش میں گیارہ سال ایک غار میں رہے اور مشقِ خط کرتے رہے۔</p>
<p>نستعلیق اور دیگر خطوط میں فرق:<br />
عربی کے دیگر رسوم الخط ثلت ، نسخ ، محقق و ریحان وغیرہ میں لفظ کافی بڑے ہوتے ہیں اور پھر اعراب اور تزئینی اصطلاحات کے باعث ان کی خطاطی کافی خوبصورت نظر آتی ہے۔ لفظ ایک دوسرے کے ساتھ متصل کیے جاسکتے ہیں اور عبارت مستحکم ہوجاتی ہے خواہ خطاط ان رسوم الخط میں مہارت نہ رکھتا ہو۔لیکن نستعلیق میں ایسا نہیں ہے۔خط نستعلیق میں لفظ چھوٹے اور بناوٹ کے لحاظ سے بہت مشکل اور بھرپور نوک پلک اور چست دائرے ہوتے ہیں اور پھر عبارت میں الفاظ و حروف ایک دوسرے میں شامل نہیں ہوسکتے ۔ تزئین نہ ہونے کے برابر ہے اور لفظ و حروف الگ الگ نظر آتے ہیں۔ اسلیے اس خط میں کامل مہارت درکار ہوتی ہے۔ عام سطح کا خوش نویس اس خط کو بطور پیش کرنے سے قاصر رہتا ہے۔</p>
<p>خط نستعلیق کی اہمیت:<br />
خطاطی کی تمام خوبیاں خط نستعلیق پر ختم ہوتی ہیں (شہزادی زیب النساء)<br />
نستعلیق نے خوبصورتی و رعنائی میں باقی خطوط کوماند کردیا ہے (داراشکوہ)<br />
خط نستعلیق دیکھتے ہی طبیعت میں شگفتگی پیدا ہوتی ہے (نظام الدین پروفیسر)<br />
نستعلیق کی پیدائش نے تمام دنیائے فن کو حیرت زدہ کردیا اور اگر غیر جانبدارانہ طور پر جائزہ لیا جائے تو خطِ نستعلیق اس وقت دنیائے اسلام کا خوبصورت ترین خط ہے (اطلس خط: حبیب اللہ فضائل)</p>
<p>در سلسلہ وصف خط ایں بس کہ ز کلکم<br />
ہر نقطہ سویدائے دل اہل سواد است<br />
(طالب اَملی)<br />
اس رسم الخط کی تعریف کے سلسلہ میں عرض ہے کہ میرے قلم سے اس کا جو بھی نقطہ نکلتا ہے ، اہل دل کے لیے لطف کا سامان فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>چند اقوال خطاطی کے بارے میں:<br />
خطاطی کرتے وقت خطاط کائنات کے تمام گوشوں کی سیر کرتا ہے (صبح الاعشی)<br />
خطاط کو یہ سوچ کر لکھنا چاہیے کہ اس کی زندگی سے ایک سطر کم ہو رہی ہے (تعلیم الخط العربی)<br />
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا خط لکھنے والے کی تصویر ہوتا ہے (صبح الاعشی)<br />
خطاطوں کو باوضو ہوکر قلم کو ہاتھ لگانا چاہیے۔</p>
<p>فن خطاطی پر چند مایہ ناز کتابیں:<br />
مرقع زریں از تاج الدین زریں رقم<br />
نگارستان از محمد اعظم منور رقم<br />
تدریس خطاطی از محمد اعظم منور رقم<br />
مرقع خط از ڈاکٹر مسعود احمد<br />
مرقع گوہر از خورشید عالم گوہر قلم<br />
جواہر القلم از خورشید عالم گوہر قلم<br />
مرقع لوح و قلم از خورشید عالم گوہر قلم<br />
اعجازِ خطاطی از خورشید عالم گوہر قلم<br />
نصاب خطاطی از خورشید عالم گوہر قلم<br />
جمال خطاطی از خورشید عالم گوہر قلم<br />
قرانک آرٹ از مارٹن لنگز<br />
اسلامک کیلیگرافی از یسین صفدی<br />
قواعد الخط العربی از ہاشم محمد الخطاط<br />
کراسۃ الخط العربی از سید ابراہیم</p>
<p>مخزنِ خطاطی از خورشید عالم گوہر قلم سے کاپی شدہ متن</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://fonts.alqlm.org/2010/09/10/%d8%ae%d8%b7-%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خط ثلث</title>
		<link>http://fonts.alqlm.org/2010/08/18/%d8%ae%d8%b7-%d8%ab%d9%84%d8%ab/</link>
		<comments>http://fonts.alqlm.org/2010/08/18/%d8%ae%d8%b7-%d8%ab%d9%84%d8%ab/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 17 Aug 2010 19:45:24 +0000</pubDate>
		<dc:creator>القلم</dc:creator>
				<category><![CDATA[Calligraphy Books]]></category>
		<category><![CDATA[featured articles]]></category>
		<category><![CDATA[خط ثلث]]></category>
		<category><![CDATA[مضامین خطاطی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://fonts.alqlm.org/?p=1491</guid>
		<description><![CDATA[تجھ نین کی کیا کروں تعریف یہ عین ثلث کا صاد دستا اردو کے پہلے نامور شاعر ولی دکنی نے اپنے اس شعر میں محبوب کی آنکھوں‌کو خط ثلث سے تشبیہ دی ہے اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ۔ وجہ یہ ہے کہ ہماری خطاطی میں ثلث کو آرائش و زیبائش کے مرکزی خط کی حیثیت &#8230; </p><p><a class="more-link block-button" href="http://fonts.alqlm.org/2010/08/18/%d8%ae%d8%b7-%d8%ab%d9%84%d8%ab/">Continue reading &#187;</a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://alqlm.org/Jahan-e-Qalam/wp-content/uploads/2010/08/8.gif"><img class="alignleft size-large wp-image-1492" title="8" src="http://alqlm.org/Jahan-e-Qalam/wp-content/uploads/2010/08/8-500x284.gif" alt="" width="383" height="217" /></a>تجھ نین کی کیا کروں تعریف<br />
یہ عین ثلث کا صاد دستا</p>
<p><a href="http://fonts.alqlm.org/wp-content/uploads/2010/08/8.gif"><img class="aligncenter size-large wp-image-1492" title="8" src="http://fonts.alqlm.org/wp-content/uploads/2010/08/8-500x284.gif" alt="" width="500" height="284" /></a></p>
<p>اردو کے پہلے نامور شاعر ولی دکنی نے اپنے اس شعر میں  محبوب کی آنکھوں‌کو خط ثلث سے تشبیہ دی ہے اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ۔ وجہ  یہ ہے کہ ہماری خطاطی میں ثلث کو آرائش و زیبائش کے مرکزی خط کی حیثیت حاصل  ہے۔ آج بھی نامور خطاط مساجد ، لوحوں ، کتابوں وغیرہ پر ثلث کی مدد سے  نہایت خوبصورت خطاطی و نقاشی کرتے اور ان کی دلکشی کو چار چاند لگا دیتے  ہیں۔<br />
خط ثلث نے بنیادی طور پر قدیم عربی خطوط کوفی اور نسخ سے جنم لیا۔ اس خط کے  باعث کوفی میں لکھے جانے والے حروف کی لائنیں خمیدہ اور ترچھی لائنوں  میں‌تبدیل ہوگئیں۔ ثلث عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں “تیسرا حصہ”  یا “تہائی”۔ اس نئے خط کو ثلث اس لئے کہا گیا کہ جب اس کے ذریعے کوئی لفظ  لکھا جائے تو اس کا تہائی حصہ نیچے غچہ کھا جاتا ہے۔<br />
کوفی اور نسخ کے بطن سے یہ نیا خط اموی دور کے خطاطوں نے تخلیق کیا تھا  تاہم اسے گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں شہرت ملی۔ تب خطاط سورتوں کی  سرخیاں ، مذہبی کتبے ، القابات اور نوشتے اس خوبصورت آرائشی‌ خط میں لکھ کر  خاص و عام سے داد پانے لگے۔ رفتہ رفتہ مساجد میں بھی ثلث ہی سے قرآنی آیات  بڑے دلکش انداز میں لکھی جانے لگیں۔ اسی زمانے میں قرآن پاک بھی اس منفرد  خط سے لکھے گئے۔<br />
ثلث‌ایک بڑا خوش اسلوب اور خمیدہ خط ہے اس کی متعدد ذیلی اقسام بھی ہیں جو  مختلف ادوار میں نامور خطاطوں کے ذہن رسا سے ایجاد ہوئیں۔ اس خط کی ترقی و  اشاعت میں خصوصا ترک عثمانی دور کے خطاطوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ ترقی و  اشاعت کے تین مرحلوں میں منقسم ہے جسے آرٹ کے ماہریں “انقلابات خطاطی”  کہتے ہیں۔<br />
پہلے انقلاب کے بانی پندرھویں صدی میں جنم لینے والے ترک خطاط حمد اللہ  تھے۔ دوسرے انقلاب نے سترہویں صدی میں مشہور ترک عثمانی خطاط حافظ عثمان کے  ہاتھوں جنم لیا۔ انیسویں صدی کے اخیر میں تیسرا انقلاب آیا جس کے بانی  مبانی محمد شوقی آفندی تھے۔ آج کل تیسرے انقلاب سے وابستہ خط ثلث ہی اسلامی  ممالک میں مقبول و معروف ہے۔<br />
خط ثلث کا بہترین خطاط ترک عثمانی خطاط اور مصور مصطفی رقیم آفندی کو سمجھا  جاتا ہے ۔ انہوں نے ترک عثمانی خطاطی میں ایسی حد قائم کی تھی جسے ماہرین  کے مطابق ابھی تک کوئی خطاط عبور کرسکا۔<br />
ہندوستان اور پاکستان کے تمام بڑے خطاطوں نے آرائشی و زیبائشی خطاطی کرتے ہوئے خط ثلث کا سہارا لیا ہے۔ ان میں تاج الدین زریں رقم ، <a href="http://auraq.urdutech.com/?p=112" target="_blank">عبدالمجید پرویں رقم </a>، عبدالمجید دہلوی ، حافظ یوسف سدیدی ، صوفی عبدالرشید لطیف رقم وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>یہ مضمون روزنامہ ایکسپریس 27 مئی 2008 سے لیا گیا</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://fonts.alqlm.org/2010/08/18/%d8%ae%d8%b7-%d8%ab%d9%84%d8%ab/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں فنِ خطاطی کا سفر</title>
		<link>http://fonts.alqlm.org/2009/09/23/calligraphy-typography/</link>
		<comments>http://fonts.alqlm.org/2009/09/23/calligraphy-typography/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 23 Sep 2009 12:50:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>القلم</dc:creator>
				<category><![CDATA[Calligraphy Books]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://fonts.alqlm.org/?p=565</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان میں فنِ خطاطی کا سفر 1947 سے 2007 تک۔ از خورشید عالم گوہر قلم شائع شدہ ماہنامہ پھول دسمبر 2007 جب پاکستان بنا تو اس وقت لاہور میں ساٹھ کے قریب خطاطی سیکھنے کے مراکز تھے جن میں الماس رقم کی بیٹھک ، تاج الدین زریں رقم کی بیٹھک ، محمد اعظم منور رقم &#8230; </p><p><a class="more-link block-button" href="http://fonts.alqlm.org/2009/09/23/calligraphy-typography/">Continue reading &#187;</a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><span style="color: blue;">پاکستان میں فنِ خطاطی کا سفر</p>
<p>1947 سے</p>
<p>2007  تک۔</p>
<p>از خورشید عالم گوہر قلم شائع شدہ ماہنامہ پھول دسمبر 2007</p>
<p></span></div>
<p>جب پاکستان بنا تو اس وقت لاہور میں ساٹھ کے قریب خطاطی سیکھنے کے مراکز تھے جن میں الماس رقم کی بیٹھک ، تاج الدین زریں رقم کی بیٹھک ، محمد اعظم منور رقم کی بیٹھک ، محمد بخش جمیل رقم کی بیٹھک اور حاجی دین محمد کی بیٹھک مشہور تھیں۔اس زمانے میں خطاطی مرکز کو بیٹھک کہا جاتا تھا۔ ان مراکز میں سب سے زیادہ مشہور تاج الدین زریں رقم کی بیٹھک تھی۔ تاج الدین زریں رقم کا تحریر کردہ “مرقع زریں” خطِ نستعلیق میں ایک کامل رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ ممتاز خطاط جناب عبدالمجید پروین رقم بانی لاہوری نستعلیق کا پاکستان بننے سے پہلے انتقال ہوچکا تھا ، تا ہم ان مراکز میں انہی کے انداز خط کی تربیت دی جاتی تھی۔تاج الدین زریں رقم سے تربیت حاصل کرنے والوں میں ممتاز خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی مرحوم ، صوفی خورشید عالم مخمور مرحوم جیسے اساتذہ فن شامل تھے۔ انہی دنوں سیالکوٹ سے سید انور حسین نفیس رقم تشریف لائے اور ان کا قیام بھی زریں رقم کی بیٹھک پر رہا۔</p>
<p>لاہور میں خطاطی کی نمائشوں کا آغاز ممتاز خطاط عبدالواحد نادر قلم نے کیا۔ مرحوم نے عبد المجید پروین رقم سے تربیت حاصل کی تھی ۔انہوں نے ہال روڈ پر اسلامک خطاطی گیلری کو قائم کیا۔ فن خطاطی سیکھنے والوں کے لیے یہ ایک بڑا مرکز تھی۔ الماس رقم علامہ اقبال کے منظور نظر خطاطوں میں شامل تھے۔کتبہ نویسی میں محمد بخش جمیل رقم بھی بہت مشہور و معروف تھے۔</p>
<p>حافظ محمد یوسف سدیدی نے لاہور میں عربی خطوط (ثلث ، محقق ، طغرا) کو ایک بار پھر زندہ کیا جو مغلیہ عہد میں لکھے جاتے رہے مگر بعد ازاں آہستہ آہستہ ان کی طرف انگریزی عہد کی وجہ سے رجحان کم ہوگیا۔حافظ محمد یوسف سدیدی کا سب سے کمال یہ تھا کہ انہوں نے ان خطوط کو از خود کتب خطاطی سے سیکھا ، کیونکہ برصغیر پاک و ہند میں ان خطوط کا کوئی استاد موجود نہ تھا۔عالم اسلام کے شانہ بہ شانہ آنے کی لئے ان خطوط ( ثلث ، محقق ، طغرا ) میں کمال حاصل کرنا لازمی تھا۔ حافظ صاحب کے ساتھ سید انور حسین نفیس رقم نے بھی اس طرف خصوصی توجہ دی اور وہ ان عربی خطوط میں اپنا ایک خوبصورت انداز قائم کرنے میں کامیاب رہے۔</p>
<p>کراچی میں یوسف دہلوی کے نستعلیق اندازِ خط کو جناب عبد المجید دہلوی نے خوب تقویت دی اور نستعلیق کے اس انداز کو بہت فروغ بخشا۔ عبد المجید دہلوی بہت مرنجاں مرنج صاحب فن تھے۔ کراچی میں ان کے شاگردوں کی ایک خاصی تعداد موجود ہے۔ عبد المجید دہلوی نے بہت سے کتب کے سرورق اور اخبارات کی الواح لکھیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔</p>
<p>پشاور میں ایم ایم شریف آرٹسٹ نے اپنے فن کا لوہا منوایا۔ انہوں نے ایک کتاب ید بیضا کے نام سے تحریر کی جس میں خطاطی کے کئی فن پارے شامل کئے۔ انہوں نے پشاور اور مضافات کے اہل فن کو اعلی فنی تربیت دی اور بہت سے طغرے اور فن پارے یادگار چھوڑے۔پاکستان کے ان تین بڑے شہروں کے علاوہ اور بہت سے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں بھی اس فن کے ماہر پیدا ہوتے رہے۔</p>
<p>سرگودھا میں بشیر صاحب ایک اچھے خوش نویس تھے۔ پوسٹر نویسی میں ان کو کمال حاصل تھا۔ وہاں پر ظہیر الدین ظہیر اور ایم لطیف اس فن میں بہت معروف ہیں۔فیصل آباد میں صدیق صاحب بڑے معروف خطاط تھے ان سے کافی تعداد میں طالبانِ فن نے استفادہ کیا جن میں کئی نامور بھی ہوئے۔ موجودہ عہد میں وہاں پر حافظ انجم ، عبد الستار ، ایم صدیق اچھے صاحبانِ فن ہیں۔</p>
<p>ڈیرہ غازی خان میں اعجاز ڈیروی بہت نامور خطاط تھے۔ اس علاقے میں نامور خطاط جناب سیمیں رقم کے تلامذہ بہت زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔سیمیں رقم کے شاگردوں میں خورشید شمیم مرحوم اچھے خطاط تھے۔</p>
<p>کوئٹہ میں بھی خطاطوں کی اچھی تعداد موجود ہے جن میں حافظ صادق القلم ، حامد سلیم مرزا ، نیاز محمد ، راز محمد ، حنیف شہزاد ، عبد الحمید شاہوانی وغیرہ خاصے معروف ہیں۔ اس شہر میں ماضی میں بھی بہت اچھے اچھے صاحبانِ فن گزرے ہیں جنہوں نے فن خطاطی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>اوکاڑہ میں محمد اصغر اوکاڑوی اور محمد انیس بہت مشہور ہیں۔</p>
<p>فن خطاطی میں لاہور میں دور حاضر کے بڑے بڑے خطاط موجود ہیں جن میں عبد الرحمن ، واجد محمود یاقوت رقم ، شوکت منہاس ، منور اسلام ابن نادر القلم ، محمد علی زاہد ، شیر زماں ، اکرام الحق ، عرفان احمد خان ، احمد علی ، غلام رسول منظر ، بہار مصفطے ، عبد الرشید ، احمد علی بھٹہ ، جمشید احمد ، عامر منظور نمایاں طور پر اس فن میں متحرک ہیں۔</p>
<p>گوجرانوالا قیام پاکستان سے قبل خطاطی کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس شہر کو قرآنی خطاطی کے حوالے سے نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس ضلع کے قصبے ایمن آباد اور کیلیانوالا قرآنی خطاطی میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ سید احمد ایمن آبادی ، عبد اللہ وارثی ، حکیم رفیع اور بہت سے نامور خطاط اس علاقے میں ہو گذرے ہیں۔ یہاں خواتین کی اکثریت نے بھی خطاطی میں نہایت عمدہ نمونے چھوڑے جن میں فاطمۃ الکبرے کو قرآنی خطاطی میں اہم مقام حاصل تھا۔ یہ ممتاز مصور سعید اختر کی پھوپھی تھیں۔</p>
<p>دور حاضر میں خطاطی کے فروغ کے لئے بہت کام ہورہا ہے۔ اس سلسلے میں نجی سطح پر بھی بہت سی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کیلی گراف آرٹسٹ گلڈ نے خطاطی کے فروغ کے لیے چار بین الاقوامی کامیاب نمائشوں کا انعقاد کیا۔ دانشور اطہر طاہر نے اس سلسلہ میں موثر کردار ادا کیا اور اس تنظیم نے پاکستان ٹیکسٹ بک بورڈ کو پانچویں جماعت تک نصاب تیار کر کے دیا۔رشید بٹ صاحب کی صدارت میں ایک اور تنظیم پاکستان کیلی گرافر ایسوسی ایشن کے نام سے اس فن کی خدمت کے لئے متحرک ہے۔ اس تنظیم نے بھی کئی اہم قومی و بین الاقوامی نمائشوں کا اہتمام کیا اور خاص طور پر کئی اہلِ فن کو بیرون ملک تربیت کے لئے بھی بھیجا۔دور حاضر میں نیشنل کالج آف آرٹس میں خطاطی کی تربیت اس فن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ تربیت بشیر احمد صاحب ہیڈ آف فائن آرٹ دیپارٹمنٹ کی کوششوں سے شروع ہوئیں۔ کالج نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے 2006 سے ایک سالہ خطاطی ڈپلومہ کلاس کا آغاز کیا جو کامیابی سے جاری ہے اور طلباء و طالبات کی اکثریت اس فن کی طرف مائل ہے۔ (نیشنل کالج آف آرٹس میں خطاطی کے اجراء اور فروغ میں مضمون نگار خورشید عالم گوہر قلم کی کوششیں قابل قدر ہیں اور وہی این سی اے میں اس شعبہ کے انچارج ہیں)پاکستان میں فن خطاطی پر بہت سی کتب شائع ہوئیں ، جن میں تذکرہ خطاطی ، گلستانِ خطاطی ، تاریخ خط و خطاطاں ، نقش گوہر ، نصاب خطاطی ، اعجاز خطاطی ، مخزن خطاطی ، مرقع گوہر ، مرقع لوح و قلم ، پرل آف کیلی گرافی ، ونڈر آف کیلی گرافی ، مرقع خط وغیرہ شامل ہیں۔<br />
اگرچہ ہائر ایجوکیشن کمشن اسلام آباد نے پاکستان بھر کے فائن آرٹس کے کالجوں کے لئے نصاب کی منظوری دے دی ہے مگر اصل معاملہ اس کو وہاں رائج کرنے کا ہے۔ دیکھیے کہ وہ فن جو قیام پاکستان سے پہلے تعلیم کا لازمی حصہ تھا ، قیام پاکستان کے بعد زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ وہ فن کہ جس کو آزادی کے بعد چمکنا چاہیے تھا ، آزادی کے بعد غلامی میں کیوں آیا؟ اور ہم سب کا سوال ہے کہ یہ فن کب آزاد ہوگا؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://fonts.alqlm.org/2009/09/23/calligraphy-typography/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مرقع زریں</title>
		<link>http://fonts.alqlm.org/2009/08/09/muraqa-e-zareen-calligraphic-book/</link>
		<comments>http://fonts.alqlm.org/2009/08/09/muraqa-e-zareen-calligraphic-book/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 09 Aug 2009 14:11:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>القلم</dc:creator>
				<category><![CDATA[Calligraphy Books]]></category>
		<category><![CDATA[Calligraphy Samples]]></category>
		<category><![CDATA[تاج الدین زریں رقم]]></category>
		<category><![CDATA[خطاطی کی کتب]]></category>
		<category><![CDATA[مرقع زریں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://fonts.alqlm.org/2009/08/09/%d9%85%d8%b1%d9%82%d8%b9-%d8%b2%d8%b1%db%8c%da%ba-2/</guid>
		<description><![CDATA[&#160; مکمل کتاب یہاں سے ڈائونلوڈ کریں]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img height="352" width="500" src="http://www.brain.com.pk/~sabir786/books/zareen/PIC_0036.JPG" alt="" /></p>
<p><img height="667" width="500" src="http://www.brain.com.pk/~sabir786/books/zareen/PIC_0004.jpg" alt="" /></p>
<p>&nbsp;</p>
<h1 style="text-align: center;"><a href="http://www.alqlm.org/forum/downloads.php?do=file&amp;id=179"><span style="font-family: Tahoma;"><strong>مکمل کتاب یہاں سے ڈائونلوڈ کریں</strong></span></a></h1>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://fonts.alqlm.org/2009/08/09/muraqa-e-zareen-calligraphic-book/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مرقع زریں</title>
		<link>http://fonts.alqlm.org/2009/08/09/muraqqa-e-zarreen-calligraphic-book/</link>
		<comments>http://fonts.alqlm.org/2009/08/09/muraqqa-e-zarreen-calligraphic-book/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 08 Aug 2009 18:18:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>القلم</dc:creator>
				<category><![CDATA[Calligraphy Books]]></category>
		<category><![CDATA[Calligraphy Samples]]></category>
		<category><![CDATA[تاج الدین زرین رقم]]></category>
		<category><![CDATA[خطاطی]]></category>
		<category><![CDATA[مرقع زرین]]></category>
		<category><![CDATA[نستعلیق]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://fonts.alqlm.org/?p=338</guid>
		<description><![CDATA[]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://www.brain.com.pk/~sabir786/books/zareen/PIC_0036.JPG" alt="" width="500" height="352" /></p>
<p><img src="http://www.brain.com.pk/~sabir786/books/zareen/PIC_0004.jpg" alt="" width="500" height="667" /></p>
<p><img src="http://www.brain.com.pk/~sabir786/books/zareen/PIC_0005.JPG" alt="" width="500" height="290" /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://fonts.alqlm.org/2009/08/09/muraqqa-e-zarreen-calligraphic-book/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مرقع الف لام میم</title>
		<link>http://fonts.alqlm.org/2009/08/08/alif-lam-meem-calligraphic-book/</link>
		<comments>http://fonts.alqlm.org/2009/08/08/alif-lam-meem-calligraphic-book/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 08 Aug 2009 17:22:46 +0000</pubDate>
		<dc:creator>القلم</dc:creator>
				<category><![CDATA[Calligraphy Books]]></category>
		<category><![CDATA[Calligraphy Samples]]></category>
		<category><![CDATA[جیکبس مائکل]]></category>
		<category><![CDATA[مرقع ا ل م]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://fonts.alqlm.org/?p=332</guid>
		<description><![CDATA[مکمل مرقع ڈائون لوڈ کریں]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://fonts.alqlm.org/wp-content/uploads/2009/08/2a4b81d71d.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-973" title="2a4b81d71d" src="http://fonts.alqlm.org/wp-content/uploads/2009/08/2a4b81d71d.jpg" alt="2a4b81d71d" width="500" height="284" /></a></p>
<p><img src="http://www.freeimagehosting.net/uploads/ba9f534f60.jpg" alt="" width="500" height="302" /></p>
<p><img src="http://www.freeimagehosting.net/uploads/963bc69a09.jpg" alt="" width="500" height="302" /></p>
<p><img src="http://www.freeimagehosting.net/uploads/9fbd5b6fa5.jpg" alt="" width="500" height="294" /></p>
<p><img src="http://www.freeimagehosting.net/uploads/619105d67a.jpg" alt="" width="500" height="298" /></p>
<p style="text-align: center;"><a href="http://www.alqlm.org/forum/downloads.php?do=file&amp;id=178" target="_blank"><strong><span style="font-size: medium;"><span style="font-family: Tahoma;">مکمل مرقع ڈائون لوڈ کریں</span></span></strong></a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://fonts.alqlm.org/2009/08/08/alif-lam-meem-calligraphic-book/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

