header_default-new
زیر تکمیل پروجیکٹ | جہان قلم

زیر تکمیل پروجیکٹ

al_qalam_urdu_calligraphy_by_khawarbilal1

جہان قلم ـ ـ ـ ـ کی وساطت سے آپ کو اب تک بہت سے رنگا رنگ یونی کوڈ اردو فنٹ فراہم کیے جا چکے ہیں اور  ہنوز یہ عمل مسلسل جاری ہے اس طرح اب  اردو  زبان ٹائیپو گرافی  کے میدان میں بھی خود کفیل ہوتی جا رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب اردو زبان اس اعتبار سے مالا مال ہو جائے گی

جہان قلم پر نہ صرف مختلف لوگوں کے بنائے ہوئے فونٹس  فراہم کیے جاتے ہیں بلکہ القلم کی جانب سے بھی نئے فونٹس ریلیز کیے جا رہے ہیں القلم فونٹ سیریز اس سلسلہ  میں ایک اہم پیش رفت ہے

القلم قرآن فونٹ القلم کا ایک اور اہم کارنامہ ہے  اور اس فونٹ کی خوبی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور زمانہ کلین ٹچ اردو ڈکشنری بنانے والے ادارہ نے اپنے قرآنی سافٹ ویئر خزائن الہدایت کے لیے القلم قرآن فونٹ کو منتخب کیا

اسی طرح القلم کے زیر اہتمام اردو کا پہلا  ترسیمہ جاتی فونٹ علوی لاہوری نستعلیق کے نام سے ریلیز کیا گیا جس کے خالق  جناب امجد حسین علوی ہیں القلم نے نہ صرف  اس فونٹ کی تیاری میں  فونٹ کے خالق کی  قدم قدم پر حوصلہ افزائی کی بلکہ القلم کی جانب سے سید تفسیر حسین اور  جناب فاروق سرور خان نے 75000 روپے کا نقد انعام  دیا

علوی نستعلیق کے بعد پھر  جمیل نستعلیق اور  فیض نستعلیق کی یکے بعد دیگرے ریلیز نے واقعی اردو ٹائیپو گرافی کے میدان میں  نئے نئے  امکانات پیدا کیے

تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبول

کی مصداق القلم نے  ان نستعلیقی خطوط پر  اکتفا نہیں کیا بلکہ ستاروں سے آگے کے جہانوں کی تلاش میں سرگردانی اختیار کی اور  اپنے لیے ایک اور سنگ میل کا تعین کیا

یہ سنگ میل کیا ہے؟

عرصہ دراز سے یہ بات محسوس کی جارہی تھی کہ موجودہ نوری نستعلیق ہاتھ سے کی گئی کتابت یا خطاطی کا متبادل نہیں گو کہ اس خط نے اپنی مقبولیت کی معراج پائی اور  اردو مواد کی طباعتی دنیا میں  ایک طویل عرصہ تک  ان پیج اور نوری نستعلیق کا راج رہا اور آج بھی صورت حال یہ ہے کہ کوئی بھی دوسرا رسم الخط اس کے مقابلے میں نہیں آسکا ـ

احباب نے بڑی محنت اور کاوش سے اس  رسم الخط کو ان پیج کے تسلط سے تو آزاد کرا لیا لیکن اوپن ٹائپ میں کوئی ایسا خط ہنوز پیش نہیں کیا جا سکا جو کہ  نوری نستعلیق کا حقیقی حریف اور متبادل ثابت ہو سکےـ نفیس نستعلیق گو کہ نسبتا اچھا خط ہے لیکن بہت زیادہ سست رفتار ہونے کی بنا پرپبلشنگ کی دنیا میں  نوری نستعلیق کا متبادل ثابت نہیں ہوسکا ـ اسی طرح  ایک ایرانی خط منظر عام پر آیا جو کہ میر عماد الحسینی کے طرز کتابت پر مبنی تھا لیکن اس ایرانی اسلوب نستعلیق کو برصغیر میں وہ پذیرائی حاصل نہ ہو سکی  گو کہ اس خط میں بہت سی خوبیاں ایسی ہیں جو اس خط کو مشینی کتابت کے درجہ سے نکال کر  دستی کتابت کے قریب کر دیتی ہیں تاہم بر صغیر پاک و ہند میں چونکہ نستعلیق طرز کتابت میں مقبول عام کا درجہ لاہوری نستعلیق کو حاصل ہے اس لیے ہمیشہ اس بات کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی کہ لاہوری طرز کے خط کو  رواج دیا جائے

اس ضرورت کے پیش نظر ہم نے لاہوری طرز کتابت پر مبنی خط کی تیاری کو اپنا ہدف مقرر کیا اور  اس کو عملی جامہ پہنانے کے کے لائحہ عمل پر غور شروع ہوا

پہلے مرحلہ پر ہمیں خطاط کا انتخاب کرنا تھا لہذا قرار پایا کسی اساتزہ فن میں سے کسی خطاط کو منتخب کیا جائے جس کی خطاطی کو بنیاد بنا کر اس خط کو تیار کیا جائے  چنانچہ قرعہ فال خطاط المک استاد تاج الدین زریں رقم کے نام پڑا اور ان کی خطاطی پر مبنی خط کی تیاری کا فیصلہ ہوا ـ

بدقسمتی سے ہمارے پاس  زریں رقم  کے مرقع زریں کے علاوہ اور کوئی خطاطی موجود نہیں تھی جس سے ضروری اشکال حاصل کی جا سکتیں

جاری ہے ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ

Popularity: 22% [?]

line
footer
Powered by Wordpress | Designed by Elegant Themes