از قلم جناب ابو شامل
اسلم کمال کی خطاطی ، جدید آہنگ میں
پاکستان میں خطاطی کو نئے انداز میں متعارف کروانے میں صادقین کے ساتھ جس شخص کا نام لیا جاتا ہے وہ اسلم کمال ہیں۔ آپ نے مصورانہ آہنگ میں خطاطی کر کے اس علم کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ مصورانہ خطاطی نے انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں شہرت بخشی، اور آپ کا شمار پاکستان کے چند بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور و خطاط میں ہوتا ہے۔
پاکستان میں خطاطی کو نئے انداز میں متعارف کروانے میں صادقین کے ساتھ جس شخص کا نام لیا جاتا ہے وہ اسلم کمال ہیں۔ آپ نے مصورانہ آہنگ میں خطاطی کر کے اس علم کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ مصورانہ خطاطی نے انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں شہرت بخشی، اور آپ کا شمار پاکستان کے چند بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور و خطاط میں ہوتا ہے۔
آپ نے مصورانہ خطاطی میں خوب اختراعات کیں اور ان کے انداز میں جیومیٹریکل اور عمارتی تشبیہات بخوبی نظر آتی ہیں۔ صادقین کے بعد سب سے زیادہ اہمیت آپ کو ملی۔ آپ نے کتابوں کے سرورق بنانے میں نہایت اعلی انداز اختیار کیا اور اسے قبول عام حاصل ہوا۔ اسلم کمال کے فن پاروں میں رنگوں کا استعمال اور ان کا انتخاب بہت سلیقہ سے کیا گیا ہے۔ (مخزن خطاطی از خورشید عالم گوہر قلم)
آپ ایک جامع الکمالات شخصیت ہیں۔ آپ عالمی شہرت یافتہ مصور و خطاط ہونے کے علاوہ ایک اچھے افسانہ نگار، صاحب طرز شاعر اور سفر نامہ نگار کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں، بلکہ آپ ماہر اقبالیات بھی ہیں اور ایوان اقبال میں ڈائریکٹر پروگرام کے عہدے پر فائز ہیں۔
شاندار خدمات پر 1993ء میں آپ کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا اس کے علاوہ آپ نے ملکی و بین الاقوامی سطح پر درجنوں اعزازات حاصل کیے۔
سرورق تخلیق کرنا آپ کا سب سے پسندیدہ اور مشہور کام ہے اور پاکستان کونسل آف آرٹس کے ریکارڈ کے مطابق 1961ء سے 2000ء تک آپ نے 18 ہزار سے زائد سرورق تخلیق کیے، جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ آپ نے اقبال اور فیض کی شاعری کو بھی مصورانہ آہنگ میں پیش کیا اور خوب داد سمیس1۔آپ کے خطاطی کے مخصوص انداز کو خط کمال کہا جاتا ہے۔
ماہ رواں میں اردو محفل پر ایک گفتگو کے دوران برادر محترم نبیل حسن نے خط کمال کو فونٹ کے قالب میں ڈھالنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن اصل مسئلہ ان کی خطاطی کے نمونوں کی دستیابی کا تھا۔ خوش قسمتی سے میرے پاس محترم اسلم کمال کی مرتب کردہ کتاب “اسلامی خطاطی- ایک تعارف” موجود تھی جس میں اسلم کمال صاحب کی خطاطی کے درجنوں نمونے تھے۔ پہلی فرصت میں ان نمونوں کو اسکین کر کے فونٹ بنانے کے لیے اشتیاق علی کو ارسال کر دیے گئے جنہوں نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض تین دنوں میں اس خط کو فونٹ کے قالب میں ڈھال کر زندہ جاوید کر دیا۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ اسلم کمال صاحب ایک شاعر بھی ہیں، اس لیے اس تحریر کا اختتام انہی کی شاعری پر کرتے ہیں:
متاع دیدۂ تر سے
میں اپنے مو قلم کو با وضو کر کے
“ا” لکھتا ہوں، “ب” لکھتا ہوں
بنور روزن غار حرا
بفیض جلوہ ہائے روح الامیں
بنام رحمت للعالمیں
بیاد خوش نویسان رسول
بیاد باب شہر علم — علی ابن ابی طالب
بیاد آں امام عاشقاں پور بتول
“ا” لکھتا ہوں اور “اللہ” لکھتا ہوں
میں “بسم اللہ” لکھتا ہوں


5 comments
ابوشامل
January 10, 2010 at 1:46 AM (UTC 6)
یہاں پیش کرنے کا بہت شکریہ اشتیاق۔ یہ تحریر میری طرف سے آپ کو پیش کردہ خراج تحسین تھی۔
اشتیاق علی قادری
January 11, 2010 at 2:00 PM (UTC 6)
ابو شامل صاحب بہت بہت شکریہ آپ کی عزت افزائی کا ۔ بہت شکریہ۔
غلام مصطفےٰ مغل
January 11, 2010 at 7:35 PM (UTC 6)
جناب محترم اشتیاق علی قادری صاحب
اسلام و علیکم۔
اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے آپ کی نیک خیریت مطلوب۔۔۔۔۔۔بخریت۔
میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ جناب شاکر صاحب کو محترم اسلم کمال صاحب
کی خطاطی کے حروفِ ابجد فونٹ بنانے کے لے ارسال کروں کیونکہ میں نے
اُن کی خطاطی کو کورل میں ڈرافٹ کیا ہے۔میں نے انکا پورٹریٹ بھی بنایا ہے۔
باقی میرا آرٹ ورک http://www.mughaljee.deviantart.com,
اور فیس بک پرmughaljee_ok
کے نام سے پروفاءل ہے۔
آپ کا بے مخلص
دعا گو
غلام مصطفےٰ مغل ۔اوکاڑا
اشتیاق علی قادری
January 12, 2010 at 7:32 PM (UTC 6)
وعلیکم السلام جناب غلام مصطفے مغل صاحب !
اللہ کا کرم ہے میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کی خیریت نیک چاہتا ہوں۔ جناب آپ کورل کی فائل ارسال کر دیجئے میں انشا اللہ آپ کا فونٹ تیار کر دیا جائے گا ۔البتہ آپ شاکر القادری صاحب سے بھی رابطہ رکھیے۔
ویسے میں نے Deviantartپر آپ کے آرٹ ورکس دیکھے ۔ ما شا اللہ کافی مہارت ہے آپ کو گرافکس اور فوٹو گرافی میں۔ اللہ تعالی آپ کو مزید زور قلم عطا فرمائے۔ آمین۔
والسلام
محمد اشتیاق علی عطاری قادری ۔
kaafps
March 3, 2010 at 11:47 PM (UTC 6)
very thank full to u