«

»

Dec 26

موبائل میں نستعلیق فونٹ

از ڈاکٹر سرمد حسین ، ادارہ تحقیقات اردو ( کرلپ ) یہ مضمون انگریزی جریدہ سپائیڈر— دسمبر 2009 میں urdu in its true form کے نام سے شائع ہوا جس کا ترجمہ افادہ عامہ کے لیے پیش خدمت ہے۔

موجود دور میں بڑی حد تک موبائل فون لوگوں کے باہمی رابطے کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے جس کا اندازہ ایس ایم ایس کا بڑھتا ہوا استعمال اور مقبولیت سے لگایا جا سکتا ہے۔ ابتدا میں سیل فون کے ذریعے ایس ایم ایس بھیجنے کے لیے انگریزی ہی استعمال کی جاتی تھی لیکن بتدریج اس کے لیے انگریزی کے علاوہ دوسری زبانوں کے استعمال کا احساس ہونا شروع ہوا۔ ٹیکنالوجی اب دنیا کے زیادہ تر لوگوں کی دسترس میں تھی اور لوگ باہمی رابطے کے لیے اپنی زبان کے استعمال کرنے میں زیادہ آسانی محسوس کر رہے تھے اور اردو زبان لکھنے پڑھنے اور بولنے والوں کا بھی یہی حال تھا۔

اردو اپنی اصل شکل میں ، نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے جو نسخ رسم الخط سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہے مثلا نسخ رسم الخط میں “ب” کی صرف چار اشکال ہوتی ہیں

مجرد شکل ب ابتدائی شکل “بالکل” درمیانی شکل “تبدیلی” اور آخری شکل “طبیب”

جبکہ یہی ب نستعلیق رسم الخط میں 30 مختلف اشکال رکھتا ہے اور نستعلیق فانٹ میں حرف کی شکل متعین کرنے کے لیے حرف کے سیاق یا context کے حوالے مختلف قواعد بنانا پڑتے ہیں۔

پیچیدہ لکھائی کے نظام مثلا نستعلیق لکھائی کو موبائل فون کی سکرین پر لکھنا مشکل امر ہے۔ابتدائی فانٹ فارمیٹ مثلا ٹرو ٹائپ فارمیٹ اتنے طاقتور نہیں تھے کہ ان کے ذریعے نستعلیق لکھنا ممکن ہوتا کیونکہ یہ فارمیٹ بنیادی طور پر لاطینی لکھائی کے نظاموں کے وضع کیے گئے تھے۔ بعد ازاں اوپن ٹائپ فانٹ فارمیٹ وضع کیا گیا جس کی مدد سے پیچیدہ ایشیائی رسم الخطوط مثلا نستعلیق ، کھمر ، تبتی ، دیوناگری ، سنہالی وغیرہ میں لکھنے کے لیے فانٹ تخلیق کرنا ممکن ہوگیا۔

لیے تخلیق کیے گئے اوپن ٹائپ فانٹ میں متن رینڈر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ “پینگو” Pango ایک آزاد مصدر رینڈرنگ انجن ہے جسے لینکس پر مختلف اطلاقیے متن رینڈرنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ مائیکروسافٹ اس کام کے لیے “یونی سکرائب” uni-scribe نامی رینڈرنگ انجن استعمال کرتا ہے۔

اگرچہ یہ رینڈرنگ انجن کمپیوٹر پر استعمال کے لیے موجود ہیں لیکن ابھی تک یہ موبائیل پلیٹ فارم پر استعمال نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے موبائیل فون اوپن ٹائپ فانٹ فارمیٹ کی سپورٹ نہیں ہے نتیجتا نستعلیق رسم الخط موبائیل فون میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

فاسٹ یونیورسٹی لاہور میں ادارہ تحقیقات اردو ( کرلپ ) کے زیر نگرانی “پین لوکلائزیشن منصوبہ” ایشیائی زبانوں سے متعلقہ کمپیوٹنگ مسائل کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ گزشتہ سات سالوں میں اس منصوبہ کے ذریعے پندرہ زبانوں کے لیے بنیادی اور اعلی سطحی Technology solution مہیا کیے گئے ہیں۔ اس منصوبہ کے تحت موبائیل فون پر پیچدہ ایشیائی زبانوں کے نظام کو عملی صورت دینے کےلیے بھی کام کیا جا رہا تھا۔

موجود موبائیل سافٹ وئیر ، متن کے دکھانے کے لیے “بٹ میپ فانٹ” استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ پیچیدہ لکھائی کے نظاموں کے لیے ویکٹر فارمیٹ اوپن ٹائپ فانٹ فارمیٹ استعمال ہوتا ہے۔

حال ہی میں کرلپ کی ایک ٹیم نے پینگو رینڈرنگ انجن کو ایک موبائیل فون میں نصب کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جس کی وجہ سے پیچدہ لکھائی کے نظاموں مثلا نستعلیق کا موبائیل فون میں لکھنا ممکن ہو گیا ہے۔

ذیل میں آپ اس کا عملی نمونہ ملاحظہ کر سکتے ہیں جس میں نوکیا Nokia E51 پر نفیس نستعلیق اوپن ٹائپ فانٹ کو پینگو رینڈرنگ انجن کی مدد سے دکھایا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>