«

»

Nov 14

کتابت کا سفر

کتابت کا سفر
سید تفسیر احمد

یوں تو لکھائی کی ابتدا دو ہزار سال پہلے کانسی کے عہد سے ہوئی ۔ مگر دنیا کے سب سے پہلے ابجد ١٨٠٠ بی سی مصر میں بنے تھے۔ کانسی کے عہد کے آخر میں سرابیت الخدام ( سیناء میں واقع ہے ) میں پروٹو سیناء کے نقوش ملی ہیں۔ لسانی تحقیق دانوں کے مطابق پرٹو سیناء خط دو حصوں میں بٹ گیا ان میں سے ایک لانبط کے حروف کہلاتے ہیں ۔
عربی حروف کا ماخذ الانبط حروف ہیں ۔ اشکال سے یہ ظاہر ہوتا کہ الانبط حروف ، عربی کے حروف بن گئے۔ اس وقت یہ ترچھے ابجد تھے
پانچویں یا چھٹی صدی بی سی میں شمالی سامی قبیلہ ، البترا میں آکر آباد ہوا ۔ البترا ، وادی عربۃ کے علاقہ میں ہے جو اب الأردن کہلاتا ہے ۔صحیح تو نہیں پتہ کہ ان ابجد کے نام کا کیا تلفظ تھا مگر آج ہم ان کو الانبط کے نام سے پہچانتے ہیں ۔
لسانیات کے ماہروں کا یہ اندازہ ہے کہ سامی ایک قسم کی عربی زبان بولتے تھے۔ دو صدی اے ڈی میں ہمیں ان کے حروف کا ریکارڈ ملتا ہے۔ اس زمانے کی بولی آرامی تھی جو تجارتی کاموں میں بھی استعمال ہوتی تھی اس زبان میں عربی حروف کے نقوش ملتے ہیں ۔ یہ آرامی حروف وقت کے ساتھ بدلتے گئے۔ ایک وقت آیا کہ پتھروں اور پائیدار چیزوں پر لکھے جانے والے حرف جنہیں نقش کاری کہا جاتا ہے اور ترچھے اور تیزی سے لکھنے والی جڑی لکھائی ایک دوسرے سے الگ ہوئی ۔ ترچھے حروف پاپئیرس پر لکھے گئے جو ایک موٹے کاغذ کی طرح ہوتا ہے اور ایک پودے کی گٹھلیوں سے بنایاجاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ترچھی لکھائی حاوی ہوئی اور اسطرح عربی حرف بنے۔ آج بھی اسلامی دور سے پہلے کے چالس ہزار نقش موجود ہیں۔ اور اس طرح کتابت کی بنیاد پڑھی ۔ قدیم دستاویز کا مطالحہ یہ بتاتا ہے کہ ساتویں صدی اے ڈی میں عربی حرف کی ٹکسالی شکل ظاہر ہوئی۔ اس زمانے کے لانبط اور سامی حروف کے مطا لحہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کہیں کہیں ان حروف پر نقطے بھی تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہے ٢٨ حروف میں کئی حرفوں کی مشابت کی وجہ سے نقطوں کے استعمال کی ضرورت پڑھی۔ حرفوں کی ترتیب میں بعض دفعہ حرف کی تبدیل شدہ شکل کو پہلی شکل کے بعد رکھا گیا اور بعض دفعہ آخر میں ۔
عراق کے گورنر حجاج ابن یوسف کے زمانے حرف علت کے بدلے لال نقطے استعمال کے گئے۔ اس کے کوئی سو سال بعد خلیل بن احمد الفراھیدی نے حرکات بنادیں۔ خلیل بن احمد نے عربی زبان کی پہلی لغات کتاب العین لکھی ۔ وہ علم عروض کا بھی بانی بھی تھا۔
حجاج ابن یوسف کے حکمرانی سے پہلے تمام امور مملکت ایرانی پہلوی خط میں لکھے جاتے تھے۔ اس کےحکم سے حروف میں اور تبدیلیاں آئیں ۔ اور ت مربوطہ ، الف ماکسورہ، حمزہ کا استعمال شروع ہوا۔ اور قرآن کے لکھنے کے لیے مکہ میں بولے جانے تلفظ کو ترجیح دی گئی ۔
ایک سو سال کے اندر ہی اندر عربی نحو کے ماہروں نے تعلیم دینےکی آسانی کے لیے ایک جیسے شکل کےحروف کو ایک دوسرے کے برابر رکھا۔ جب عربی حروف دوسرے ممالک پہونچے تو ان ملکوں نے ان کو استعمال کرنے کے لیے اپنے مقامی آوازوں کے حروف شامل کرلیے

کتابت کا سفر
خطاطی کی ابتدا

سید تفسیر احمد

دنیا کہ مختلف مذہب اپنے دینوی عقائد کو تمثیلی تصویری میں پیش کرتے ہیں مگر اسلام نے اس طریقہ سے دوری اختیار کی اور اس کے بجائے الفاظ اور حروف کی سائز اور اشکال کو استعمال کیا۔ اس زمانے کے حکمرانوں نے کتابت کی فنکارانہ صلاحیت کو اسلامی تہذیب و ثفاقت اور مذہبی اظہار قرار دیا اور اس کتابت کو اسلامی خطاطی کے نام سے پہچانا جانے لگا۔

عربی خطاطی ، توانائی اور خوبصورتی کی علامت ہے اس کی تاریخ میں فنکارانہ صلاحیت ،علمیت اور فضلیت کا ا نضمام ہے۔ لکیروں کی مجرد خوبصورتی کے ذریعہ ایک توانائی، حروف اور لفظوں کے درمیان بہتی ہے اور تمام جز ایک ہوجاتے ہیں ۔ اسلامی خطاطی کی تجریدی کو ہمیشہ سمجھنا آسان نہیں ۔ لیکن اس کی خوبصورتی تیز فہم نظروں میں افشاں ہوتی ہے۔ عربی خطاطی صرف ایک فن ہی نہیں بلکہ یہ سماوی اور اخلاقی نقش بھی ہے جس سے اس کو بلندی اور عظمت حاصل ہوتی ہے

جیسے جیسے عرب سے باہر اسلام پھیلا دنیا میں مسلمانوں کی تعداد کا اضافہ ہوا۔ ان نئے مسلمانوں نے اپنی تہذیب اور جمالیت کے مطابق خطاطی کو اسلام کا تجریدی فن میں اظہار سمجھا۔ اس مُتنوّع تہذیب اور ثقافت کے وفور درآمد کی وجہ سے مذہبی خطاطی کی ابتدا ہوئ اور ایران میں تعلیق اور ترکی میں دیوانی خطوط بنے اور عربی زبان کو بہتر کرنے کی ضرورت ہوئی ۔ غیر عربی مسلمانوں کو عربی زبان سے متعارف کرنے کے لیے ایک واضع اور عالمگیر زبان کی ضرورت ہوئی ۔ ایسی زبان جس کا رسم الخط تمام مسلمان سیکھ سکیں۔

عربی زبان اور رسم الخط میں اصلاح کے لیے پہلا قدم دورِ امیہ میں لیا گیا ۔ عبدل اسود الدعالی عربی کی گرامر کا بانی سمجھا جاتا ہے ۔۔ اس نے ایسی علامتں ایجاد کیں جن کو حرف کے ساتھ استعمال کرنے سے ایک جیسے حرف صحیح کی صوتی ادائگی میں امتیاز پیدا ہوا۔ اس کو تشکیل کو صوت کہا گیا۔ ان علامتوں میں امتیاز کرنے کے لیے محتلف رنگ استعمال ہوئے۔ پیلا رنگ مصوتی کے ساتھ اور لال ممیزی نشان کے لیے۔ بااثر اور مستعد وائسراے الحجاج التقفی ( 714 – 694 ) نے علامتوں کی اصلاح کا بیڑہ لیا۔ اس نے ناصر اور یحیٰ کو نظامِ تشکیل کو بہتر بنانے کی ذمداری دی۔ انہوں نے نقطوں اور حرف علت کی علامتوں کو شامل کیا۔ نقطے حرف کے اوپر یا نیچے لگائے گئے اور ان کو اکیلا ، دو یا تین کی تعداد میں استعمال کیا گیا۔ بہت سے لوگوں کے لیے ان کی نقل نوسی مشکل ثابت ہوئی اور بہتر سسٹم کی ضرورت پڑی۔ دوسری اصلاح الخليل ابن احمد الفراھيدي نے 786 میں کی۔ خلیل ، علم زبان کا ماہر ہونے کے علاوہ لغت نویس بھی تھا۔ خلیل نے حرف علت ایجاد کیے اس نے موجودہ اشکالِ حرف کے ابتدائی حصے سے اعراب بنائے مثلاً حمزہ ، عین کا ابتدائی حصہ ہے۔

یہ نیا سسٹم تمام مسلم ممالک میں مقبول ہوا اور عربی خطاطی میں تقدس ، خوبصورتی اور ہفت رنگی ہوئی۔ ۔ عربی خطاتی کا استعمال ، امور حکومت، عمارتوں ، سکوں ، مراسلات کو خوبصورتی برھانے ، خوش اسلوب کتابیں بنانے، خاص طور ہر قرآن اور دوسری ادبی کتابوں میں ہونے لگا۔

الخط الدیوانی

الخط التعلیق


Leave a Reply

Your email address will not be published.

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>